ابنا: اطالوي وزير خارجہ جوليو ترزي نے روم ميں ايک کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے سلامتي کونسل کے ڈھانچے ميں اصلاح کے بارے ميں کہاکہ سيکورٹي کونسل کے ڈھانچے ميں اصلاح کے عمل کو اب اس سے زيادہ تاخير ميں نہيں ڈالنا چاہئے تاکہ اس عالمي ادارے کي ساکھ اور حيثيت باقي رہ جائے اور ساتھ ہي اس کي تقويت بھي ہو -
اطالوي وزير خارجہ کا کہنا تھا کہا دنيا کو ايک ايسي سلامتي کونسل چاہئے کہ جو بھي ملک چاہے اس کا ممبر بن سکے اور عالمي امن و استحکام کي برقراري کے لئے ضروري ہے کہ سلامتي کونسل کے ارکان کي تعداد بڑھائي جائے - اقوام متحدہ اور خاص طور پر اس کي سلامتي کونسل کے ڈھانچے ميں اصلاح دنيا کے بيشتر ملکوں کا سنجيدہ مطالبہ ہے مگر ابھي تک اس اہم مطالبے پر توجہ نہيں دي گئي ہے -
سلامتي کونسل کے دس غير مستقل ممبران عالمي سطح پر اپنے نظريات بيان کرنے ميں موثر واقع ہوسکتے ہيں ليکن پانچ مستقل ممبران کي مرضي کے بغير کوئي بھي فيصلہ نہيں ليا جاسکتا - اسي لئے بہت سے ممالک کا مطالبہ ہے کہ اب وقت آگياہے کہ سلامتي کونسل کے ڈھانچے ميں اصلاح کي جائے -
سلامتي کونسل ميں صرف پانچ ملکوں کو ہي ويٹو پاور کا اختيار وہ مسئلہ ہے جس پر دنيا کے سبھي ملکوں کو اعتراض ہے اسي لئے دنيا کے بيشتر ممالک يہي مطالبہ کررہے ہيں ويٹو پاور کا خاتمہ کيا جائے، سلامي کونسل کے ممبران کي تعداد بڑھائي جائے اور اس کے منشور ميں تبديلي لائے جائے –
سلامتي کونسل کے ڈھانچے ميں اصلاح کا مطالبہ صرف وہي ممالک نہيں کرہے ہيں جو غير مستقل ممبران ہيں بلکہ روس جيسا ملک بھي جو سلامتي کونسل کا مستقل ممبر ہے سلامي کونسل کے ڈھانچے ميں اصلاح کا مطالبہ کرنے لگا ہے –
روسي وزير خارجہ سرگئي لاوروف نے سلامتي کونسل ميں ہندوستان اور برازيل کي مستقل رکنيت کي حمايت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم بين الاقوامي ادارے کے ڈھانچے ميں اصلاح فيصلہ سازي کے امر ميں سبھي ملکوں کے نظريات کو سامنے رکھ کر ہوني چاہئے –
اقوام متحدہ کے ڈھانچے ميں اصلاح کي بحث اسي وقت شروع ہوگئي تھي جب انيس سو پينتاليس ميں اس کي بنياد ڈالي گئي تھي - اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل کے ڈھانچے ميں اصلاح آخري بار انيس سو پينسٹھ ميں ہوئي تھي جب اس کے ارکان کي تعداد گيارہ سے بڑھا کر پندرہ کردي گئي تھي –
البتہ اس وقت سلامتي کونسل کے ويٹو پاور ملکوں کي تعداد بڑھانے کے سلسلےميں کوئي فيصلہ نہ ہوسکا –
سلامتي کونسل کے صرف پانچ ممالک امريکا برطانيہ فرانس روس اور چين ويٹو پاور کے مالک ہيں جبکہ دنيا کے بعض بر اعظم اور بڑے بڑے خطے اور علاقے اس حق سے محروم ہيں –
براعظم افريقہ ميں ترپن ممالک ہيں اور وہاں سے کوئي بھي ملک ويٹو پاور کا حق نہيں رکھتا - جبکہ ايشيا اور آسٹريليا کے چھپن ملکوں ميں سے صرف ايک ملک چين کو ہي ويٹو پاور حاصل ہے –
جبکہ براعظم يورپ کے اڑتاليس ممالک ہيں اور اس کے تين ممالک ويٹو کا حق رکھتے ہيں - تيسري دنيا کے ممالک ، تيل پيدا کرنےوالے ممالک اور اسلامي ممالک کے پاس کہ جن کي آبادي ڈيڑھ ارب سے زيادہ ہے سلامتي کونسل ميں ايک بھي مستقل نشست نہيں ہے –
امريکا نے جو براعظم امريکا کے نمائندے کي حيثيت سے سلامتي کونسل ميں ويٹو پاور کا حامل ہے ہميشہ اپنے اس پاور کا غلط استعمال کرتا رہتا ہے اور اس نے سلامتي کونسل کے ارکان کي تعداد بڑھانے کے مسئلے پر مسلسل خاموشي اختيار کررکھي ہے -
ايسا لگتا ہے کہ سلامتي کونسل کے ڈھانچے ميں جو زيادہ تر مستقل ممبران کے مفادات کو ہي مد نظر رکھتي ہے اصلاحات کو لے کر پائے جانے والے مختلف نظريات کے پيش نظر اس سلسلے ميں کوئي خاص اميد نہيں رکھي جاسکتي.
.......
/169